بقید حیات

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - زندہ "ہزہائینس (میر علی نواز خاں ٹالپر) نے فرمایا کہ جب میں قید حیات ہوں تو پھر تمھیں کس بات کی فکر ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، سہ روزہ 'مراد' خیر پور، ٧ جنوری، ٣ ) ١ - زندگی میں۔ "میں چاہتا ہوں کہ آپ کے بقید حیات سفر کو جاؤں۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٨٣:١ )

اشتقاق

فارسی حرف جار اور عربی اسما پر مستعمل مرکب ہے۔ فارسی سے اردو میں ماخوذ ہے اردو میں بطور اسم صفت اور گاہے بطور متعلق فعل مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زندہ "ہزہائینس (میر علی نواز خاں ٹالپر) نے فرمایا کہ جب میں قید حیات ہوں تو پھر تمھیں کس بات کی فکر ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، سہ روزہ 'مراد' خیر پور، ٧ جنوری، ٣ ) ١ - زندگی میں۔ "میں چاہتا ہوں کہ آپ کے بقید حیات سفر کو جاؤں۔"      ( ١٩٢٤ء، نوراللغات، ٤٨٣:١ )